info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





ایک، دو، تین کہنے سے کتنی طلاق واقع ہوتی ہے؟


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص(زید) نے بیوی کے چچازاد سے کہا:"میری بیوی مجھ سے فارغ ہے اور اس کو ایک دو تین طلاق" جبکہ بیوی حاملہ ہے۔آیا کتنی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں؟ رجوع کی کیا صورت ہے؟


جواب:

بر تقديرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں زید کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے؛کیونکہ ایک، دو ، تین کا موصوف طلاق ہے۔ (خیر الفتاوی جلد6/ص111 ط:امدادیہ)لہٰذا اب نہ رجوع جائز ہے، نہ عقدِ جدید کافی ہے اور نہ ہی دوبارہ آباد وہوسکتے ہیں۔ لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔ (البقرة:230)۔ ولما في الهداية:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها

(كتاب الطلاق، 2/258، 257 ط: دار احياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 227202610159

فتویٰ آن لائن


ایک، دو، تین کہنے سے کتنی طلاق واقع ہوتی ہے؟ #طلاق #طلاق_ثلاثہ #حرمت_مغلظہ #رجوع #نکاح #مسائل_طلاق #فقہ_حنفی #خاندانی_مسائل #اسلامی_احکام #دارالافتاء