info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





بیٹوں اور بیٹیوں میں جائیداد کی تقسیم بمعہ سرکاری اخراجات کی کٹوتی


سوال: میری والدہ (آمنہ بی بی) کا انتقال ہوچکا ہے۔ورثاء میں4بیٹے اور 6بیٹیاں ہیں۔مرحومہ کے شوہر اور والدین کا انتقال انکی زندگی میں ہی ہوگیا تھا۔ترٓکہ میں ایک مکان مالیت تقریباً 1،70،00،000 روپے ہیں۔ سرکاری اخراجات تقریباً سات لاکھ روپے آنے ہیں۔ ہر ایک کا شرعی حصہ بتا دیں۔


جواب:

مسئلہ14 ترکہ1،63،00،000 (متوفیہ)

میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا

1 1 1 1 1 1 2 2 2 2

فی بیٹی:  1164286۔روپے 

فی بیٹا: 2328571۔ روپے 

 

برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ آمنہ بی بی (مرحومہ) کا کل ترکہ 13حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اور رقم اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ترکہ حکومتی اخراجات نکالنے کے بعد تقسیم کیا جائے گا۔


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 303202610167

فتویٰ آن لائن


بیٹوں اور بیٹیوں میں جائیداد کی تقسیم بمعہ سرکاری اخراجات کی کٹوتی #تقسیم_ترکہ #وراثت_کے_مسائل #بیٹوں_اور_بیٹیوں_میں_تقسیم #جائیداد_کی_وراثت #مالیت_کے_اعتبار_سے_تقسیم #قرض_اور_اخراجات_کی_کٹوتی #فرائض #عصبہ #فقہ_حنفی #ترکہ_کی_تقسیم