info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





گود لیے بچے کی ولدیت کس کے نام سے ہوگی؟


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچے نے گود لیا، اسے پالا پوسہ ۔ اس کی ولدیت میں اپنا نام لکھوا دیا۔ اب اس کا نکاح ہورہا ہے، لے پالک والد کا نام ولدیت میں لکھ اور لے سکتے ہیں؟


جواب:

واضح رہے کہ لے پالک بچے کے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات وغیرہ میں اس کے حقیقی والد کا نام لکھنا ضروری ہے، پالنے والے کا نام بطور والد لکھنا بالکل جائز نہیں ہے، بلکہ نبی کریمﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو حقیقی والد کے غیر کی طرف منسوب کرے، اس پر جنت کو حرام قرار دیا ہے۔

عن سعد رضي الله عنه، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: «من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام»

(صحيح البخاري، كتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم الحديث: 6766، 8/ 156 ط: دار طوق النجاة)

نیز ارشادِ خداوندی ہے:

{ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ} [الأحزاب: 5]

ترجمہ: "ان کو انکے باپوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ(تعالیٰ) کے ہاں زیادہ انصاف والا(معاملہ) ہے"

اور تفسیر روح المعانی میں ہے:

ويعلم من الآية أنه لا يجوز إنتساب الشخص إلى غير أبيه (روح المعاني، الأحزاب: 5، 21/ 149 ط: إحياء التراث العربي)

ترجمہ: "اور آیت سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی شخص کو اس کے والد کے غیر کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ہے"

الحاصل حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کا نام لکھنا حرام وگناہ ہے۔ بچے کو اس کے حقیقی والد کے بجائے پالنے والے کی طرف منسوب کرنا اور دستاویزات مثلاً نکاح نامہ وغیرہ میں ولدیت کے خانہ میں پرورش کرنے والےکا نام لکھنا حرام وگناہ ہے، البتہ سرپرست میں نام لکھ سکتے ہیں۔باقی بوقت نام حقیقی والد کا نام لیا جائے، ولدیت میں لے پالک کا نام لے لیا اور مذکورہ بچہ حاضر ہوا تو نکاح ہوجائے گااور اگر غائب ہوگا تو نکاح منعقد نہیں ہوگا۔لما في الأشباه والنظائر لابن نجيمؒ:

ولو غلط وكيلها بالنكاح في اسم أبيها ولم تكن حاضرة لا ينعقد النكاح

(الفن الثاني، کتاب النکاح، ص: 148 ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 304202610181

فتویٰ آن لائن


گود لیے بچے کی ولدیت کس کے نام سے ہوگی؟ #ولدیت #گود_لیا_ہوا_بچہ #نکاح #اسلامی_احکام #سورۃ_الاحزاب #صحیح_بخاری #نسب #شرعی_رہنمائی #فتویٰ