info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





والد اور سوتیلی والدہ کے ترکہ اور وصیت کا حکم


سوال: میرے والد صاحب بیس سال پہلے وفات پا گئے تھے، ان کی دو شادیاں تھیں، پہلی بیوی(میری والدہ) ان کی زندگی میں وفات پاگئی تھیں، ان سے ہم پانچ بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ میرے والد صاحب نے میری والدہ کی وفات کے بعد دوسری شادی کرلی تھی، اس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔


جواب:

 

مسئلہ8/16/ مضروب2 ترکہ 1،30،00،000 (متوفی)

میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

بیوہ- بیٹا -بیٹا -بیٹا -بیٹا- بیٹا -بیٹی- بیٹی - بیٹی- بیٹی

1- 7

2- 2- 2- 2- 2- 2- 1- 1- 1- 1

بیوہ: 2600000۔روپے 

فی بیٹا: 2600000۔روپے 

فی بیٹی: 1300000۔روپے 

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ مرحوم کا

کل ترکہ 10حصے ہو کر حسبِ تفصیلِ بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔

 


فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 303202610177

فتویٰ آن لائن


والد اور سوتیلی والدہ کے ترکہ اور وصیت کا حکم #وراثت #تقسیم_وراثت #فقہ_حنفی #سوتیلی_والدہ #وصیت #بدائع_الصنائع #اسلامی_مالیات #شرعی_حصص #حق_ورثاء #فتویٰ