info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





کیا چالیس دن الگ رہنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟


سوال: میرے پانچ بچے ہیں، رمضان میں شوہر نے ایک طلاق دی تھی ، پھر بعد میں دوبارا نکاح کرکے آباد ہوگئے تھے۔ پھر لڑائی ہوئی تو میں اپنے میکے آگئی، اب تقریباً چار ماہ ہورہے ہیں۔ کسی نے کہا ہے کہ اگر زوجین چالیس دن جدا رہیں تو ایک طلاق ہوجاتی ہے۔ آیا یہ سچ ہے؟ نیز ہم نیا نکاح کئے بغیر اکھٹے رہ سکتے ہیں ؟


جواب:

طلاق يا تفریقِ شرعی کے بغیرمحض زوجین کے الگ رہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، خواہ کتنا ہی عرصہ جدارہیں۔

لما فی الدر المختار:

وركنه لفظ مخصوص

قال ابن عابدينؒ: (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية

(الدر مع الرد، كتاب الطلاق، 3/ 230 ط: دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 304202610180

فتویٰ آن لائن


کیا چالیس دن الگ رہنے سے طلاق ہوجاتی ہے؟ #طلاق #نکاح #ازدواجی_مسائل #فقہ_حنفی #خود_بخود_طلاق #تفریق #الدر_المختار #ردالمحتار #شرعی_رہنمائی #فتویٰ