بیوہ کو چوتھا حصہ اس وقت ملتا ہے جب میت کی کسی بیوی سے کوئی اولاد نہ ہو۔
سوال: میرے والد صاحب مسمیٰ المعروف خان لودھی کا انتقال ہوچکا ہے، والد صاحب نے پہلے میری والدہ مسماۃ نسیم بی بی سے نکاح کیا ، جن سے دو بیٹیاں(عاصمہ، خدیجہ ) اور ایک بیٹا(عدنان) ہوا،پھر ان کے انتقال کے بعد والد صاحب نے عبیدہ کوثر سے نکاح کیا، جن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ ہر ایک شرعی حصہ بتا دیں۔ نیز میری سوتیلی والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ مجھے چوتھا حصہ ملے گا؛ کیونکہ قرآن میں اسی طرح ہے۔ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا ان کی یہ بات درست ہے یا نہیں؟
جواب:
32 ً
8
مضروب: 4
المعروف خان عرف لودھی خان
میتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بیوہ
بیٹی
بیٹی
بیٹا
عبیدہ کوثر
عاصمہ
خدیجہ
عدنان
4
7
7
14
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ المعروف خان لودهی کا کل ترکہ32حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
عبیدہ کوثر کو شاید اس سے شبہہ ہوا ہے کہ قرآن کریم میں ہے کہ جس کی اولاد نہ ہوتو اس کی بیوہ کو چوتھا حصہ ملتا ہے تو سو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب شوہر مرحوم کی اولاد نہ ہوتو اس کی بیوہ کو چوتھا حصہ ملتا ہے۔
جبکہ صورتِ مسئولہ میں تو المعروف خان لودھی کی اولاد ہے، اگرچہ موصوفہ کے بطن سے نہیں ہے۔لہٰذا موصوفہ کو اٹھواں حصہ ہی ملے گا۔جیساکہ آیت قرآنی میں ہے:
{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]
ترجمہ"اور ان بیویوں کو چوتھائی ملے گا اس ترکہ کا جس کو تم(مرد) چھوڑ جاؤ اگر تمہاری(مرد) کی کچھ اولاد نہ ہو، اور اگر تمہاری(مرد) کی کچھ اولاد ہو تو ان کو تمہارے ترکہ سے اٹھواں حصہ ملے گاوصیت نکالنے کے بعد تم اس کی وصیت کر جاؤ یا دین(قرض نکالنے) کے بعد"(بیان القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 531202610320
فتویٰ آن لائن