info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دہندہ کے والدین کے نام کی تختی لگانے کا شرعی حکم


سوال: ہماری مسجد زیرِ تعمیر ہے اور کسی صاحب نے کہا ہے کہ آگر آپ دیوار پر میرے والدین کے نام کی تختی لگوادیں تو میں آپ کی مسجد کی ایک منزل تعمیرکروا دیتا ہوں۔کیا اس طرح سے مسجد کی تعمیر کروانا اور نام کی تختی لگانا جائز ہے یا نہیں؟


جواب:

واضح رہے کہ اگر مسجد چندہ دہندہ کے نام کا کتبہ آیزاں کیا جائے تو ریا کا ری کے مفسدہ کے پائے جانے کی وجہ سے منع کیا جاتا ہے،جبکہ زیرِ بحث صورت میں چندہ دہندہ کے والدین کے نام کی تختی لگانا مطلوب ہے، جس میں ریاکاری کا مفسدہ نہیں پایا جاتا ، نیز اکابرینؒ سے اب تک بہت سے نامور مدارس و مکاتب میں معمول رہا ہے کہ چندہ دہندہ یا ان کے مرحومین کے نام کی تختی آیزاں کی جاتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چندہ دہندہ کے والدین کے نام کا کتبہ آیزان کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔ بہتر یہ ہے کہ برائے ایصال ثواب کا لفظ بھی ساتھ لکھ دیا جائے تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی کتبہ کا مقصدہ بھی واضح ہوجائے اور دوسرے لوگوں کو بھی اس عمل کی ترغیب ہوجائے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 304202610194

فتویٰ آن لائن


مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دہندہ کے والدین کے نام کی تختی لگانے کا شرعی حکم #مسجد #چندہ #ریاکاری #فتوی #تعمیر