دو طلاقیں پہلے دے کر رجوع کر لیا تھا اب سرائیکی زبانی میں کہا طلاق دیتا ہوں کہنے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ من مسمی محمد ابوبکر نے سال دو پہلے دو بار سرائیکی میں بیوی(عائشہ بی بی) کوکہاتھا:"میں طلاق ڈتی"(میں نے طلاق دی)دو بار کہا۔ پھر رجوع کرلیا تھا، اب تقریباً چھ دن قبل جھگڑا ہوا تو اپنی والدہ کو کہاجبکہ بیوی کچھ فاصلے پر موجود تھیں:"میں اینکوں طلاق ڈیندا"(میں اس کو طلاق دیتا ہوں)۔ ایک بار کہا جبکہ میری نیت طلاق دینے کی نہ تھی۔میرے منہ سے ایسے ہی نکل گیا۔اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟ جبکہ ہماری چار سالہ بیٹی ہے۔ ہم اکٹھے رہنا چاہتے ہیں۔
جواب:
بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں سائل (محمد ابوبکر) کے خط کشیدہ الفاظ ادا کرنے کی وجہ سے عائشہ بی بی پر تیسری طلاق واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب نہ رجوع جائز ہے اور نہ ہی دوبارہ وہ محمد ابوبکرکے ساتھ آباد ہوسکتی ہےاور نہ ہی عقدِ جدید کافی ہے۔ لقوله تعالى: فان طلقها فلا تحل له من بعد۔۔۔ (البقرة:230)۔
لما في فتح القدير:
ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال
(کتاب الطلاق،باب إيقاع الطلاق، 4/ 7 ط:دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 509202610292
فتویٰ آن لائن