ایک بیوہ ، دو بیٹیاں، ایک بھائی میں وراثت کی تقسیم
سوال: ایک آدمی’’محمد سلیم ‘‘ فوت ہوگیا ہے اس نےتیس لاکھ روپے ترکہ چھوڑا ہے ، ورثاء میں ایک بیوہ’’آمنہ‘‘ ، دو بیٹیاں 1۔خالدہ 2۔ شازیہ اور ایک بھائی’’نبیل‘‘ حیات ہے ، کچھ بھائی پہلے سے فوت شدہ ہیں۔ ان کی اولاد ہے۔ متوفی کے والدین پہلے سے فوت شدہ ہیں۔
جواب:
تقسیم ترکہ کی تفصیل درج ذیل ہے:
مسئلہ 24 ------مضروب: 2------ترکہ: 30,00,000------ (متوفی،محمد سلیم )
بیوہ بیٹی بیٹی بھائی فوت شدہ تین بھائیوں کی اولاد آمنہ خالدہ شازیہ نبیل متوفی کے بھتیجے ، بھتیجیاں 3 8 8 5 محروم
برتقدیر صحت واقعہ صورت مسئولہ میں بعد ادائے قرض و وصیتِ جائزہ متوفی ’’عبدالغفار‘‘ كا کل ترکہ چوبیس (24)حصے ہو کر حسبِ تفصیل بالا تقسیم ہوگا، ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔
بیوہ راحت بی بی بیٹی تسبیحہ نور بیٹی قائمہ نور بھائی نبیل 3,75,000 10,00,000 10,00,000 6,25,000
ہر وارث کا حصہ اس کے نام کے نیچے درج ہے۔ متوفی کے بھتیجے ، بھتیجیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 715202610343
فتویٰ آن لائن