عدت کا حکم تین طلاق کے ساتھ خاص نہیں ایک یا دو طلاق کے بعد بھی عدت لازم ہے۔
سوال: میری بیٹی کو اس کے خاوند نے دو طلاقیں الگ الگ نوٹس پر دیدی ہیں ، دونوں میں ایک ایک طلاق درج ہے۔ اب ہماری معلومات یہ ہیں کہ ایک طلاق یا دو طلاق کے بھی عدت لازم ہوتی ہے، جبکہ ہمارے رشتہ دار عزیز واقارب کہتے ہیں عدت تین طلاق کے بعد ہوتی ہے۔
جواب:
مذکورہ افراد کا بیان درست نہیں ہے ، طلاق اگر رخصتی یا خلوت صحیحہ کہ بعد ہوئی ہو تو طلاق کے فوراً بعد عدت شروع ہوجاتی ہے ، خواہ کوئی بھی طلاق ہو، ایک طلاق ہو ، دو ہوں یا تین ، طلاق رجعی ہو یا بائن بہر صورت عدت لازم ہوتی ہے ۔
چنانچہ اللہ جل شانہ کا فرمان ہے:
{ وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ} [البقرة: 228]
وإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 192)
وأنها تجب لإظهار الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها، وعفافها، وإيفائها بالنفقة، والكسوة، والمسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة، وتعريفا لقدرها،
فتاویٰ شامیہ میں ہے:
ولا تخرج معتدة رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية
(الدر المختار مع الشامیہ ، جلد: 3، صفحہ: 535)
صرف اتنا فرق ہے کہ طلاقیں اگر تین سے کم ہوں رجعی ہوں تو خاوند کو عدت میں رجوع کا حق ہوتا ہے، اگر خاوند رجوع کر لے تو عورت حسب سابق بیوی شمار ہوتی ہے اور عدت لازم نہیں رہتی ، اگر عدت میں خاوند رجوع نہ کرے تو عدت کے بعد رجوع کا حق ختم ہوجاتا ہے ۔دوبارہ آباد ہونا ہو تو نکاح لازم ہوتا ہے اور اگر طلاق بائن اور تین سے کم ہوں تو رجوع تو نہیں ہوسکتا، البتہ عدت میں اسی شخص سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، اگر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا ہو تو عدت مکمل ہونے سے پہلے نکاح نےہیں کرسکتے ۔
وینکح مبانتہ بما دون الثلاث فی العدۃ وبعدہا بالاجماع، ومنع غيره فيها لاشتباه النسب۔
(شامیہ، ، جلد:3،صفحہ:409، ط: ایچ ایم سعید،کراچی)
اور اگر طلاقیں تین ہوں تو نہ رجوع کا حق ہوتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح کی اجازت ہوتی۔
چنانچہ اللہ جل شانہ کا فرمان ہے:
فَإِن طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِن بَعدُ حَتَّی تَنکِحَ زَوجًا غَیرَہُ ۔(البقرہ:۲۳۰)
الحاصل ؛ مذکورہ افراد کا بیان درست نہیں ، ایک یا دو طلاق کے بعد بھی عدت شرعًا لازم ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 718202610354
فتویٰ آن لائن