info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





مکان بیوی کے نام سے خرید کر اس کا کرایہ بیوی کو دینےسے وہ مالک ہوگئی۔


سوال: میں نے ایک عدد پلاٹ خریدا جو اپنی اہلیہ کے نام کرا دیا ،پلاٹ خریدتے ہی براہِ راست اہلیہ کے نام لگوایا تھا۔ نیت اس کو دینے کی تھی ، لیکن اُن کو قبضہ نہیں دیا ، اس پلاٹ پر مکان بھی تعمیر کردیا ، کچھ عرصہ مکان کا کرایہ بھی اپنی اہلیہ کو دیتا رہا ، بعد میں اُن کو دینا بند کر دیا۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ وہ شرعاً مالک بن چکی ہے یا نہیں؟


جواب:

صورتِ مسئولہ میں یہ پلاٹ خریدتے ہی آپ کی اہلیہ کی ملک ہوچکا تھا، کیونکہ اس پلاٹ کی خریدار ہی اہلیہ ہی  ہے، خاوند نے اس کی طرف سے اس خریداری اور رقم کی ادائیگی کی ہے۔جب خریدار اہلیہ ہے تو مالک بھی وہی ہے۔ نیز اس پلاٹ پر مکان تعمیر  کرا کے دینا یہ خاوند کی طرف سےعمارت کا ہبہ ہے اور پلاٹ چونکہ پہلے سے اہلیہ کی ملک ہے اس لیے اہلیہ کا قبضہ پہلے سے ثابت  ہے ۔ نیز شروع میں اس مکان کا کرایہ اہلیہ کو دینے سے یہ قبضہ مزید متحقق ہوگیا۔

" أن القبض الموجود في الهبة ينوب عن قبض الهبة ۔۔۔ إذا كان الموهوب في يد الموهوب له وديعة أو عارية فوهب منه جازت الهبة وصار قابضا بنفس العقد ووقع العقد والقبض معا ولا يحتاج إلى تجديد القبض بعد العقد استحسانا۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 126)

الحاصل مذکورہ مکان شرعاً آپ کی اہلیہ کی ملکیت بن چکا ہے ۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 718202610355

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز