نماز باجماعت میں مقتدی امام کی دائیں بائیں جانب برابری کا لحاظ رکھیں
سوال: نمازِ باجماعت میں عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے صف بناتے وقت دائیں اور بائیں جانب برابری کا خیال نہیں رکھتے، بعض اوقات امام کے ایک طرف زیادہ لوگ کھڑے ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف جگہ خالی رہتی ہے، اور بعد میں آنے والے افراد بھی بغیر ترتیب کے کسی ایک جانب کھڑے ہوجاتے ہیں۔ شرعاً صف بندی کا درست طریقہ کیا ہے؟ کیا امام اور مقتدیوں کے لیے دائیں بائیں برابری کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟
جواب:
نمازِ باجماعت میں صفوں کی درستگی، اعتدال اور امام کے دائیں بائیں مقتدیوں کی برابری آدابِ جماعت اور سننِ نماز میں سے ہے۔ اس لیے جماعت قائم کرتے وقت امام کے پیچھے اس طرح صف بنائی جائے کہ امام صف کے درمیان میں ہو اور اس کے دائیں اور بائیں جانب مقتدی حتی الامکان برابر کھڑے ہوں، تاکہ صف کے دونوں جانب کا توازن قائم رہے، اور یہی سنت طریقہ ہے۔اسی طرح بعد میں جماعت میں شامل ہونے والے افراد بھی اس ترتیب کا لحاظ رکھیں اور بلا ضرورت کسی ایک طرف اجتماع نہ کریں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«وسطوا الإمام وسدوا الخلل»(یعنی: امام کو درمیان میں رکھو اور صفوں کے خلا پُر کرو۔)
(سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب مقام الإمام من الصف، رقم الحدیث: 681)
اس حدیث کی تشریح میں بذل المجہود میں ہے :
«أي اجعلوا إمامكم بأن تصفوا خلفه بحيث يكون الإمام حذاء وسط الصف ويكون من عن يمينه ومن عن يساره سواء»
’’یعنی امام صف کے درمیان میں اس طرح کھڑا ہو کہ صف اس کے پیچھے قائم ہو اور اس کے دائیں اور بائیں جانب لوگ برابر ہوں۔(بذل المجهود في حل أبي داود، ج:4، ص:348)
یہی وجہ ہے کہ امام کیلئے سنت طریقہ یہ ہے کہ وہ صف کے بالکل درمیان میں کھڑا ہو تاکہ دائیں بائیں جانب صف برابر رہے۔ امام کا قدرے دائیں جانب یا بائیں جانب کھڑا ہونا خلافِ سنت ہے۔ چنانچہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
«وينبغي للإمام أن يقف بإزاء الوسط، فإن وقف في ميمنة الوسط أو في ميسرته فقد أساء لمخالفة السنة»
(فتاوىٰ ہندیہ ،، جلد: 1، صفحہ:89، کتاب الصلوٰۃ،الباب الخامس، فی الامامۃ ، الفصل الخامس، في بيان مقام الإمام والمأموم)
مسجدوں میں محراب بھی امام کے قیام کی جگہ کو متعین کرنے کیلئے بنائے جاتے ہیں تاکہ صف برابر رہے۔
چنانچہ شامیہ میں ہے:
«إنما بني المحراب علامة لمحل قيام الإمام ليكون قيامه وسط الصف كما هو السنة»
(شامیہ علی الدرالمختار، جلد:1،صفحہ: 646)
ترجمہ: محراب اصل میں اسی لیے بنایا جاتا ہے تاکہ امام کے کھڑے ہونے کی جگہ متعین ہو اور وہ صف کے وسط میں کھڑا ہو، کیونکہ یہی سنت ہے۔
نیز علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«السنة أن يقوم الإمام في المحراب ليعتدل الطرفان، ولو قام في أحد جانبي الصف يكره»
یعنی امام کے محراب میں کھڑے ہونے کی سنت کا مقصد یہ ہے کہ صف کے دونوں جانب اعتدال قائم رہے، اور اگر ایک جانب کھڑا ہو تو مکروہ ہے۔(رد المحتار، 2/310)
اگر امام کی دونوں جانب مقتدی برابر کھڑے ہوں اور بعد میں کوئی نیا مقتدی آئے تو اسے دائیں جانب کھڑا ہونا بہتر ہے؛ کیونکہ صف کی دائیں جانب کھڑے ہونے کی زیادہ فضیلت ہے۔ چنانچہ البحرالرائق میں ہے:
"وروي أن الله تعالى إذا أنزل الرحمة على الجماعة ينزلها أولا على الإمام ثم تجاوز عنه إلى من بحذائه في الصف الأول ثم إلى الميامن، ثم إلى المياسر، ثم إلى الصف الثانى۔
(باب الإمامۃ،ص: 219،ط: رشيدیہ)
اور اگر پہلی صف مکمل ہوچکی ہو تو بعد میں آنے والا مقتدی نئی صف بناتے وقت صف کے درمیان سے ابتدا کرے تاکہ صف میں اعتدال قائم رہے۔نیز صف کے درمیان میں امام کے پیچھے کھڑے ہونا دائیں طرف سے بھی افضل ہے۔
وروي عنه عليه السلام أنه قال يكتب للذي خلف الإمام بحذائه مائة صلاة وللذي في الجانب الأيمن خمسة وسبعون صلاة وللذي في الجانب الأيسر خمسون صلاة وللذي في سائر الصفوف خمسة و عشرون صلوة۔(البحر الرائق، باب الإمام،ص: 219،ط: رشيديه)
لہٰذا نمازی حضرات کو چاہیے کہ جماعت میں شامل ہوتے وقت صفوں کی درستگی، خلا پُر کرنے اور امام کے دائیں بائیں برابری کا خصوصی اہتمام کریں تاکہ نماز سنت کے مطابق ادا ہو اور جماعت کا حسن برقرار رہے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 721202610357
فتویٰ آن لائن