طلاق بائنہ کے بعد دوبارہ آباد ہونے کیلئے تجدید نکاح ضروری ہے
سوال: ایک شخص نےاپنی گھر والی ھندہ کو اس کی زبان درازی، بدزبانی ، نافرمانی کی وجہ سے ایک طلاق دیدی،یہ کہا کہ میں تمہیں ایک طلاق دیتا ہوں۔ پھر اس کے بعد بھی جھگڑا چلتا رہا ۔ رجوع نہیں ہوا۔ اور ایسے ہی کئی دن او رماہ گزرتے رہے۔ جب بھی جھگڑا ہوتا عورت کو یہی کہتا کہ تو ں تو طلاق یافتہ ہے ، تجھے میں نے طلاق دی ہوئی ہے ، اس کے بھائی کو کہا کہ : ’’میں نے تیری بہن کو طلاق دی ہوئی ہے۔‘‘ عورت کی بھانجی کو کہا کہ : ’’میں نے تیری خالہ کو طلاق دی ہوئی ہے ‘‘ اپنی بھانجی کو بھی کہا کہ میں نے تمہاری ممانی کو طلاق دی ہوئی ہے، اپنے دوست کو بتایا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی۔ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ طلاق کی کون سی قسم ہے ؟ طلاق رجعی بائن یا طلاق مغلظہ۔؟ 2۔ یہ طلاق یافتہ عورت ابھی تک اپنے خاوند کے گھر رہ رہی ہے وہاں سے نہیں جارہی ، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ عورت اپنے نا محرم خاوند کے گھر میں رہ سکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ خاوند اس کو بارہا کہہ چکا ہے کہ تو طلاق شدہ ہے ، تیرا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
جواب:
صورت مسئولہ میں اگر واقعی شخص مذکور نے طلاق صریح کے بعد رجوع نہیں کیا تو عدت گزرنے کے بعد اسی طلاق کی حیثیت بائنہ میں تبدیل ہوگئی، اورمسماۃ ہندہ شخص مذکور کے نکاح سے نکل گئی ہے ۔
’’فإن طلقھا ولم یراجعھا بل ترکہا حتی انقضت عدتھا بانت ۔‘‘‘
(بدائع ،کتاب الطلاق، فصل فی بیان حکم الطلاق الرجعی، جلد:۳،صفحہ:۱۸۰)
بعد میں خاوند کا یہ کہنا کہ : ’’ توں تو طلاق یافتہ ہے ، تجھے میں نے طلاق دی ہوئی ہے ۔‘‘ یا دیگر رشتہ داروں کو بتانا کہ : ’’میں نے اس کو طلاق دی ہوئی ہے۔‘‘یہ تمام الفاظ چونکہ بطور خبر اور اطلاع کے ہیں اس لیےان سےکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
ولو قال لها: أنت طالق فقال له رجل: ما قلت فقال طلقتها ۔۔۔ أو قال هي طالق فهي واحدة في القضاء لأن قوله في المرة الثانية خرج جواباً فيكون إخباراً عن الإيقاع الأول ليتحقق جواباً۔ (المحيط البرهاني في الفقه النعماني - إحياء التراث (3/ 414))
2۔ طلاق بائنہ کی وجہ سے شخص مذکور مسماۃ ہندہ کیلئے نامحرم ہے ، جس سے پردے کا حکم ہے ، دونوں کا بغیر نکاح کے اکٹھے ایک گھر میں رہنا شرعا حرام ہے ، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:
"فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد۔
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن، 187/3، ط: دار الكتب العلمية)
لہٰذا مسماۃ ہندہ کو چاہیے کہ شخص مذکورسے الگ ہوجائے، اگر اکٹھے رہنا ہے تو پھر نکاح کر کے رہیں۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 722202610368
فتویٰ آن لائن