info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





ایک تہائی ترکہ سے کم تک وصیت کرنے کا حکم:


سوال: ’’ ایک خاتون نے اپنے ہوش و حواس میں غیر وارث کے حق میں ایک تہائی سے کم میں وصیت کی ہے تو اس کی وصیت پر کس حد تک عمل کرنا ضروری ہے اگر کوئی ایک یا سب ورثاء متوفیہ کی وصیت پر عمل نہ کریں تو کس حد تک مجرم ہوں گے۔؟


جواب:

اگر متوفیہ نے غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہے تو میت کے کل ترکہ سے تجہیز و تکفین اور ادائے قرض کے بعد ثلث مال کے اندر وصیت کو پورا  کرنا ورثاء پر لازم ہے جائز وصیت کو پورا نہ کرنے کی صورت میں ورثاء گناہ گار ہوں گے کیونکہ وصیت کو پورا کرنا میت کا حق ہے تو لہذا جو بھی میت کے حق کو ترک کرے گا وہ گناہ گار ہوگا۔

لقولہ تعالیٰ : ’’من بعد وصیت یوصی بھا او دین غیر مضار۔(النساء:11)

وفی السراجی: ’’تعلق بترکت المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبداء بتکفینہ وتجییزہ من غیر تبذیر ولا تفتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ۔

(السراجی فی المیراث صفحہ نمبر 4تا 6 ، وھکذا فی الھندیہ،  کتاب الفرائض)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 723202610373

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز