کیا وصیت پر عمل کرنا شرعاً ضروری ہے ؟
سوال: ’’ اگر متوفی نے کوئی جائز وصیت کی یعنی غیر وارث کے حق میں وصیت کی اور اپنے کل مال کے ایک تہائی سے کم کی وصیت کی ہو تو اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر کوئی ایک یا سب ورثاء متوفی کی وصیت پر عمل نہ کریں تو کس حد تک مجرم ہوں گے۔؟
جواب:
اگر واقعی متوفی نے غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہے تو میت کے کل ترکہ سے تجہیز و تکفین اور ادائے قرض کے بعد ثلث مال کے اندر وصیت کو پورا کرنا ورثاء پر لازم ہے جائز وصیت کو پورا نہ کرنے کی صورت میں ورثاء گناہ گار ہوں گے کیونکہ وصیت کو پورا کرنا میت کا حق ہے اور اس کا حکم نص قطعی قرآن مجید میں ہے ، لہذا جو بھی میت کے حق کو ترک کرے گا وہ گناہ گار ہوگا۔
لقولہ تعالیٰ : ’’من بعد وصیت یوصی بھا او دین غیر مضار۔(النساء:11)
وفی السراجی: ’’تعلق بترکت المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبداء بتکفینہ وتجییزہ من غیر تبذیر ولا تفتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ۔
(السراجی فی المیراث صفحہ نمبر 4تا 6 ، وھکذا فی الھندیہ، کتاب الفرائض)
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 723202610374
فتویٰ آن لائن