info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





کسی پر دباؤ دینے یا اپنی بات منوانے کیلئے قسم کے الفاظ کہنا۔


سوال: ہمارے علاقہ میں بہت سارے لوگوں کی یہ عادت ہے کہ جب دو یازیادہ آدمی اکھٹے ہو جاتے ہیں، تو کسی ہوٹل میں چائے پی لیتے ہیں یا کھانا کھاتے ہیں تو ہر ایک پیسے دینے کی کوشش کرتا ہے ، ایک کہتا ہے میں دیتا ہوں دوسرا کہتا ہے میں دیتا ہوں جب دونوں کا اصرار بڑھ جاتا ہے ، تو ایک کہتا ہے "قسم دی چی پیسے بہ زہ دور کوم "(قسم ہے کہ پیسے میں دونگا)،واضح فرمائیں کہ کیا ان الفاظ سے قسم ہوجاتی ہے یا نہیں ؟


جواب:

’’ قسم ہے کہ پیسے میں دونگا‘‘، یہ الفاظ کہنے والا اگر پیسے نہیں دے گا تو شرعاً حانث ہوجائے گااورقسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔

چنانچہ درمختار میں ہے:

 (و) القسم أيضا بقوله (أقسم أو أحلف أو أعزم أو أشهد) بلفظ المضارع، وكذا الماضي بالأولى كأقسمت وحلفت وعزمت وآليت وشهدت (وإن لم يقل بالله) إذا علقه

(الدر المختار والشامیہ، جلد:3، صفحہ: 716، کتاب الایمان، ط: ایچ ایم سعید، کراچی)

کذا فی الکنز، وفی النھر: وإذا حلف بشيء منها ليفعلن كذا فحنث وجبت عليه الكفارة، (وإن لم يقل بالله) لقوله تعالى: {إذ أقسموا ليصرمنها مصبحين} (القلم: 17) وقوله تعالى: {يحلفون لكم لترضوا عنهم} (التوبة: 96) وفي الآية الأخرى {اتخذوا أيمانهم جنة} (المجادلة: 16)

(النهر الفائق شرح كنز الدقائق، جلد:3،صفحہ:53،کتاب الایمان)

واضح رہے کہ  سوال میں مذکور طرزِ عمل، یعنی معمولی معاملات میں بار بار قسم اٹھانا،شرعاً پسندیدہ نہیں،  مسلمان کو اپنی زبان کی حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے نام  کی عظمت کا خیال رکھنا چاہیے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ قسمیں کھانے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا

:﴿وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ﴾۔(القلم: 10)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 724202610378

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز