info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





لڑکی کا رشتہ دینے کے عوض رقم لینا۔


سوال: ہمارے علاقہ میں جب لڑکی کا کسی سے رشتہ کیا جاتا ہے تو لڑ کی کے اولیاء لڑکے سے یالڑکے کے اولیاء سے ۵ لاکھ یا دس لاکھ یا اس سے زیادہ لے لیتے ہیں ، جبکہ مجلس نکاح کے وقت پھر لڑکی کیلئے کچھ نہ کچھ مہر مقر ر کیا جاتا ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان میں سے مہر کون سا ہو گا؟ ( مجلس نکاح سے پہلے جو پیسے لئے گئے ہیں یا جو پیسے مجلس نکاح میں مقرر کئے گئے ہیں ) اگر اول مہر ہے تو کیا نکاح سے پہلے مہر لینا ، دینا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز ہے تو پھر ثانی کا کیا حکم ہو گا یعنی وہ بھی لازم ہو گا یا نہیں ؟ اور اگر ثانی مہر ہے تو اول کیا چیز ہے؟ وہ بھی مہر ہے یارشوت ہے یا ہدیہ ، اس کا دینا لازم ہے یا نہیں ؟ نیز اس کی بھی وضاحت فرمادیں کہ ہمارے ہاں اس کو نکاح سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں اس طرح کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں کہ لڑکی کے اولیاء کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی لڑکی دیدی اور آپ نے اتنے پیسے دینے ہیں۔ لڑکے کے اولیاء کہتے ہیں: ٹھیک ہے اب اس کے بعد اس لڑکی کا کسی اور جگہ نکاح نہیں کیا جا سکتا اور نہ دینے کی صورت میں لڑائیاں بھی ہوتی ہیں ، قتل و غارت بھی ہوتی ہے رخصتی کے وقت نکاح کیلئے پھر مجلس منعقد کی جاتی ہے اس میں با قاعدہ خطبہ نکاح ہوتا ہے اور ایجاب و قبول ہوتا ہے ۔ تو کیا رشتہ کے وقت جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ان سے نکاح ہو جاتا ہے ؟ جبکہ اس میں خطبہ نکاح کا اہتمام بھی نہیں ہوتا۔ اگر اس لیکن سے نکاح ہو گیا ہے تو دوبارہ نکاح کرنا کیسا ہے ؟ جواب مع ادلہ شرعیہ ارسال فرمادیں۔


جواب:

رشتہ طے کرتے وقت لڑکی والوں کی طرف سے جو رقم لی جاتی ہے اگر یہ رقم  لڑکی  کے حق مہر کے علاوہ ہے اور نکاح فارم میں درج دیگر مدات بدل ِحق مہر ،سکنٰی  وغیرہ  کے علاوہ   ہوتی ہےجو لڑکی کو نہیں دی جاتی ، بلکہ لڑکی کے اولیاء خود رکھ لیتے ہیں تو یہ لڑکی کا معاوضہ ہے اورکسی آزاد انسان کی بیع شراء یا اس کا معاوضہ لینا شرعاً حرام ہے۔ 

عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:’’قال اللّٰہ: ثلاثۃ أنا خصمھم یوم القیامۃ: رجل أعطی بی ثم غدر ورجل باع حرا فأکل ثمنہ ورجل استأجر أجیرا فاستوفی منہ ولم یعط أجرہ۔

(بخاری شریف، باب اثم من باع حراً، کتاب البیوع ،حدیث نمبر:۲۲۲۷، کتاب الاجارہ، حدیث نمبر:۲۲۷۰)

ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں  کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے:’’ تین شخص ایسے ہیں  جن کے خلاف قیامت کے دن میں  خود مدعی ہوں  گا۔(ایک)وہ شخص جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر عہد شکنی کرے (دوسرا)وہ آدمی جو کسی آزاد انسا ن کوبیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھالے اور (تیسرا)وہ شخص جو کسی کو مزدوررکھے پھر اس سے پورا کام لے کر اس کو اجرت نہ دے۔‘‘

سائل کے بیان کے مطابق مہر مجلس نکاح میں اس کے علاوہ طے کیا جاتا ہے اس سے یہی ظاہرہوتا ہے کہ یہ رقم بطور مہر نہیں لی جاتی بلکہ بطور معاوضہ لی جاتی ہے ، اس طرح کی رقوم کا لین دین اور لڑکیوں کےاولیاء کیلئے اس کا استعمال  ہرگزجائز نہیں ۔

لہٰذااس طرح کے معاملات کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے قہر سے ڈریں او راس سے باز آ جائیں اور سچے دل سے توبہ کر کے اب تک اس مد میں جو رقم لے چکے ہیں وہ واپس کردیں ۔

یا د رہے کہ بعض پٹھان خاندانوں میں لڑکی کا رشتہ طے کرتے وقت لڑکی کا جہیز لڑکے کے ذمّہ کردیا جاتا ہے یہ سامان چونکہ لڑکی کو ہی ملتا ہے اس لیے اس رواج کے صحیح یا غلط سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ عقد معاوضہ میں داخل نہ ہوگا۔ بشرطیکہ یہ ساری رقم لڑکی کے جہیز میں ہی خرچ کی جائے اگر کچھ جہیز میں خرچ کریں اور باقی خود رکھیں تو معاوضہ میں داخل ہوگی۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 723202610370

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز