لڑکی والوں کا جہیز کے نام پر لڑکے والوں سے بھاری رقم لینا۔
سوال: بعض پٹھان فیملیوں میں جب لڑکی کا کسی سے رشتہ کیا جاتا ہے تو لڑ کی کے اولیاء لڑکے والوں سے جہیز کی تیاری کی مد میں بھاری رقم (لاکھوں) میں لیتے ہیں۔ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ خریدوفروخت کے زمرے میں آئے گا۔ کیا جائز ہے۔
جواب:
اگر یہ رقم حق مہر کے طور پر ہو تو یہ لڑکی کا حق ہے،لہذااس سے اس کے جہیز کا سامان یا زیوارات وغیرہ خریدنا تو جائز ہے،لیکن اس کو دوسرے اخراجات باراتیوں کی دعوت وغیرہ میں استعمال کرنا یا لڑکی کے گھر والوں کا اسے ذاتی استعمال میں لاناجائز نہیں۔
اگریہ رقم حق مہر کے طور پر نہ ہو توپھر اگر اس رقم سے واقعی لڑکی کا جہیز لیا جاتا ہے یا شادی ورخصتی کے دیگر اخراجات میں خرچ کی جاتی ہے تو یہ ایک رسم ہے جو کہ شرعاً ناپسندیدہ ہے ، اپنی حیثیت کے مطابق خود انتظام کرنا چاھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کو جو جہیز کا سامان دیا تھا وہ اس سلسلہ میں مشعل راہ ہے۔
اگر یہ رقم حق مہر میں بھی نہیں ہے اور جہیز وغیرہ میں خرچ نہیں کرتے بلکہ لڑکی والے یہ رقم صرف رشتہ دینے کے عوض لیتے ہیں اور خود رکھ لیتے ہیں تویہ لڑکی کا عوض ہونے کی وجہ سے شرعًا حرام ہے اس کا استعمال لڑکی کے ورثاءکیلئے جائز نہیں۔
عن أبی ھریرۃ رضی اللّٰہ عنہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:’’قال اللّٰہ: ثلاثۃ أنا خصمھم یوم القیامۃ: رجل أعطی بی ثم غدر ورجل باع حرا فأکل ثمنہ ورجل استأجر أجیرا فاستوفی منہ ولم یعط أجرہ۔
(بخاری شریف، باب اثم من باع حراً، کتاب البیوع ،حدیث نمبر:۲۲۲۷، کتاب الاجارہ، حدیث نمبر:۲۲۷۰)
ترجمہ: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی فرماتا ہے:’’ تین شخص ایسے ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں خود مدعی ہوں گا۔(ایک)وہ شخص جو میرا نام لے کر عہد کرے پھر عہد شکنی کرے (دوسرا)وہ آدمی جو کسی آزاد انسا ن کوبیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھالے اور (تیسرا)وہ شخص جو کسی کو مزدوررکھے پھر اس سے پورا کام لے کر اس کو اجرت نہ دے۔‘‘
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 723202610372
فتویٰ آن لائن