info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





نکاح شغار اور اس کا حکم


سوال: نکاح شغارکیاہے،اوراس کاکیاحکم ہے ۔اورموجودہ دورمیں جووٹہ سٹہ (رشتہ کے بدلے رشتہ )کیا جاتاہے کیایہ نکاح شغار کےحکم میں داخل ہے ؟مروّجہ وٹہ سٹہ کے جوازکاکیاطریقہ ہے؟


جواب:

نکاح شغار یہ ہے کہ زید اپنی بیٹی کانکاح بکر سے اس شرط پرکرے کہ بدلے میں بکراپنی بیٹی کانکاح زیدسے کرےگااور کسی لڑکی کا حق مہر نہیں ہوگا۔ یعنی ہرلڑکی خوددوسری لڑکی کا حق مہر ہوگی ،  شریعت میں اسکی ممانعت وارد ہوئی ہے۔

چنانچہ حدیث شریف میں ہے:

عن ابن عمررضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :نھی عن الشغار والشغاران یزوج الرجل بنتہ علی ان یزوج ابنتہ ولیس بینھاصداق۔

(مسلم شریف:جلد،1،ص،454، کتاب النکاح، باب تحريم نكاح الشغار وبطلانہ)

فی الشغار)وھوان یزوجہ بنتہ علی ان یزوجہ الاخربنتہ اواختہ مثلامعاوضۃ بالعدین وھومنھی عنہ لخلوہٖ عن المھر قولہ (ھوان یزوجہ الخ ) قال فی النھر وھوان یشاغر الرجل :ای یزوجہ حریمتہ علی ان یزوجہ الاخرحریمتہ ولامھر الا ھذا کذا فی المغرب ای علی یکون بضع صداقا عن الاخر وھذا القید لابد فی مسمی الشغار۔    

(درمختار،جلد:  4،صفحہ: 228، کتاب النکاح، باب المہر، ط: امدادیہ ، ملتان )

اگر رشتہ کے بدلے رشتہ دینے کا معاہدہ کریں ، لیکن حق مہر کی نفی نہ کی جائے بلکہ ہر لڑکی کا  حق مہر الگ سے  مقرر کیا جائے تو یہ شغار میں داخل نہیں ہوگا اور عقد درست ہوجائےگا۔

فاجبنافیہ مھرالمثل فلم یبق شغاراً  حاصلہ:انہ مع ایجاب مھرالمثل لم یبق شغاراًحقیقۃً۔

(درمختار،ج،4،ص،288کتاب النکاح،باب المھر،مطلب:نکاح الشغار)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 725202610383

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز