info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





تنازع میں بیوی کی شوہر کے حق میں گواہی قبول نہیں


سوال: ہمارے والد کی وراثت کی تقسیم ہوئی ، تو والدہ کے حصہ میں ایک مکان کا بیک والا حصہ آیا،جبکہ فرنٹ والا حصہ جاوید اقبال کے حصہ میں آیا۔ جمشید اقبال کا بیان: ثالثان نے فیصلہ کیا تھا کہ بیک میں حصہ ہونے کی وجہ سے جاوید (فرنٹ والا) بیک والے کو (یعنی والدہ کو) 5 لاکھ روپے دے گا۔ محمد بلال، جمشید، رخسانہ ، شہانہ دختران و پسران محمد حقنواز، آفرین اقبال زوجہ جمشیداقبال کا بیان حلفی ساتھ منسلک ہے۔ جاوید اقبال کا بیان: ثالثان نے جب فیصلہ کیا تو کوئی 5 لاکھ روپے ادا کرنے طے نہ ہوا تھا، یہی وجہ ہے کہ تقسیم کا فیصلہ تحریر کرتے ہوئے بھی اس متنازعہ 5 لاکھ روپے کا ذکر نہ کیا گیا، بلکہ جب ہمارے وراثتی تنازعات اٹھے تو بھی 5 لاکھ کا کوئی ذکر نہ تھا،حتیٰ کہ اس وراثتی تنازع کے حل کے لئے جامعہ خیر المدارس ،ملتان کو ثالثی بنائے جانے کا اسٹام لکھا گیا تو اس میں بھی اس کا ذکر نہ کیا گیا۔چنانچہ یہ اسٹام بعنوان"پابندی نامہ/ثالثی نامہ " منسلک ہے۔ نیز تحریری وراثتی تقسیم کے فیصلے کا گواہ شمس الدین ولد محمد حیات کا بیان حلفی ساتھ لف ہے۔نیز احسان اللہ ولد سعید احمد(محرر فیصلہ) کا بیان حلفی ساتھ لف ہے۔


جواب:

بر تقدیرِ صحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں جمشید اقبال ،بلال، شہانہ، رخسانہ مدعی ہیں کہ جاوید اقبال نے والدہ کو 5لاکھ روپے دینے تھے، جبکہ جاوید اقبال اس کا انکاری ہے۔ مدعیان نے اپنے بیان پر جو گواہی دی ہے، وہ خود مدعیان ہیں یعنی جمشید اقبال ،بلال، شہانہ، رخسانہ کی ہیں، جو گواہی نہیں بن سکتے۔ ایک گواہ آفرین اقبال چونکہ جمشید کی بیوی ہے اور بیوی کی شوہر کے حق میں گواہی قبول نہیں کی جاتی۔لما في الهداية: 

ولا تقبل شهادة أحد الزوجين للآخر (كتاب الشهادات، باب من تقبل شهادته ومن لا تقبل، 3/ 122 ط: دار احياء التراث العربي) 

ولما في المبسوط للسرخسيؒ:

أن شهادة أحد الزوجين لصاحبه لا تقبل (كتاب أدب القاضي، 16/ 64 ط:دار المعرفة) 

خلاصہ یہ ہے کہ مدعیان کے پاس اپنے دعوی پر شرعی گواہ نہیں ہیں،اس لئے اب جاوید اقبال (مدعی علیہ) کے ذمہ قسم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ دے کہ میں نے والدہ کو فرنٹ والا حصہ لینے کی وجہ سے کوئی 5لاکھ روپے نہیں دینے تھے۔چونکہ اس کا بیانِ حلفی آچکا ہے، لہٰذا جاوید اقبال کی بات معتبر ہوگی اور اس کے ذمہ کوئی پیسے ادا کرنے لازم نہیں ہیں۔

فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 727202610395

فتویٰ آن لائن


شهادة المرآة للزوج معاملات