info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





پہلے نکاح کے بعد طلاق لئے بغير زبردستی کرائے گئے دوسرے نکاح كا حكم


سوال: ریحانہ نے اپنا نکاح از خود کفو میں ایک آدمی سے کر دیا۔ بعد میں والدین کو معلوم ہوا تو انھوں نے اس کو نکاح کسی اور سے زبردستی کرا دیا۔ آیا اب کونسا نکاح معتبر ہوگا؟


جواب:

واضح رہے کہ منکوحہ کا کسی اور نکاح کرنا حرام ہے اور شریعت کا مزاق اڑانا ہے، جس پر لڑکی اور اسکی والدہ اور جس جس کو اس پہلے نکاح کا علم تھا اور وہ دوسرے نکاح پرخاموش رہے ، خوب خوب توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔ 

باقی پہلا نکاح کفو میں ہونے کی وجہ سے منعقد ہوچکا تھا، لہٰذا دوسرا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا، بلکہ زنا شمار ہوگا۔

 

لما في فتاوى قاضيخان: 

ولا يجوز نكاح منكوحة الغير و معتدة الغير عند الكل 

(الخانية علیٰ الهندية، كتاب النكاح، 1/ 180 ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 727202610396

فتویٰ آن لائن


جائز و ناجائز محرمات فی النکاح نكاح پر نكاح