’’طلاق ہے یہ کام میں کروں گا‘‘ کہنے کا حکم۔
سوال: کچھ ہم کلاس ساتھی ایک جگہ اکٹھے ہوئے اور ان میں سے ہرایک ساتھی ایک کام کیلئے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے اس دوران ایک کہتا ہے کہ :’’طلاق ہے یہ میں کروں گا۔‘‘(مثلا انہوں نے دکان سے کچھ خرید کر کھایا اور پیسے دینے میں سبقت کرتے ہوئے ان میں سے ایک یہ کہتا ہے کہ:’’ طلاق ہے کہ پیسے میں دونگا) اب یہ کہنے کے بعد کبھی تو دو سرا اس کا م (پیسے دینے وغیرہ) سے رک جاتا ہے۔ لیکن کبھی یہ کہنے کے باوجود دوسرا وہ کام کر دیدیتا ہے، تو کیا اس صورت میں شرعا یہ طلاق واقع ہو جائے گی ؟
جواب:
صورت مسئولہ میں اگر یہ الفاظ ’’طلاق ہے یہ کام میں کروں گا، کہنے والا وہ کام نہیں کرتا یا ’’طلاق ہے پیسے میں دونگا‘‘۔کہنے والا پیسے نہیں دیتا بلکہ اس کی بجائے کوئی دو سرا یہ کام کرتا ہے تو اس طرح کہنے والے کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔
’’ وإذا أضافہ إلی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا مثل أن یقول لامرأتہ: إن دخلت الدار فأنت طالق ۔‘‘(ھندیہ، جلد:۱،صفحہ:۴۲۰)
’’إذا وجد الشرط انحلت الیمین ۔‘‘(ھندیہ، جلد:۱،صفحہ:۴۱۵)
واضح رہے کہ بیوی کی طلاق کو کسی پر دباؤ بڑھانے کیلئے ، اپنی بات منوانے کیلئے ، اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کیلئے یا کسی عمل پر اصرار کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنابہت ہی خطرناک ہے، یہ طلاق کو کھیل اور مذاق بنالینے کے مترادف ہے جو کہ شریعت کی نگاہ میں نہایت قابلِ مذمت ہے۔ نکاح ایک عظیم نعمت اور مضبوط عہد ہے،شریعت نے طلاق کو اگرچہ ضرورت کے وقت مشروع رکھا ہے، لیکن اسے پسندیدہ عمل قرار نہیں دیا، یہی وجہ ہے کہ اسے ابغض الحلال (حلال چیزوں میں سے سب سے ناپسندیدہ )قرار دیا گیا ہے۔ اور روایات میں بلاوجہ طلاق دینے دینے والے پرشدید وعیدات وارد ہیں۔
چنانچہ تبیین الحقائق میں ہے :
لا يباح إلا للضرورة لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لعن الله كل ذواق مطلاق». وقال - عليه الصلاة والسلام - «أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق»، وقال - عليه الصلاة والسلام - «تزوجوا ولا تطلقوا»، وقال - عليه الصلاة والسلام - «لا تطلقوا النساء إلا من ريبة إن الله لا يحب الذواقين ولا الذواقات»
(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، جلد:2،صفحہ: 189)
الحاصل: اپنی بات منوانے کیلئے بیوی کی طلاق کو ہتھیار کے طو رپراستعمال کرنا ، یا بات بات پر بطور تکیہ کلام بیوی کی طلاق کا ذکر کرنا ، شرعًا ناپسندیدہ انتہائی قبیح عمل ہے ،اگر شرط کی خلاف ورزی پائی گئی تو اس صورت میں شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے۔
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 724202610382
فتویٰ آن لائن