info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





مرغی کے گوشت کی فروخت میں صفائی کے نام پر فی کلو 100 گرام مقررہ کٹوتی کا شرعی حکم


سوال: مرغی کا گوشت مارکیٹ میں کئی طریقوں سے فروخت کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ہمارے ہاں درج ذیل تین صورتیں رائج ہیں: پہلی صورت: زندہ مرغی کو ذبح کیے بغیر زندہ حالت میں وزن کیا جاتا ہے اور فی کلو کے حساب سے اس کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔ اس کا ریٹ عموماً ذبح شدہ مرغی کے گوشت کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ دوسری صورت: مرغی کو ذبح کر کے اس کے پر، پنجے، آنتیں وغیرہ نکال دی جاتی ہیں، لیکن گوشت کی مزید صفائی اور چربی وغیرہ نکالنے سے پہلے مرغی کو تولا جاتا ہے۔ مثلاً گاہک ایک کلو مرغی کا گوشت طلب کرے تو اس مرحلے پر ایک کلو وزن پورا کر کے مرغی دے دی جاتی ہے، پھر اس کی صفائی کی جاتی ہے۔ صفائی کے بعد جو گوشت باقی بچتا ہے وہ گاہک کے حوالے کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں گاہک کو پہلے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ صفائی کے نتیجے میں کچھ وزن کم ہوگا۔ تیسری صورت: ذبح کرنے کے بعد اس کے پر، پنجے، آنتیں وغیرہ نکال کر گوشت کی صفائی اور بوٹیاں بنانے کا کام کیا جاتا ہے، اور گوشت کو صاف کرتے ہوئے ترازو میں ڈالا جاتا رہتا ہے۔ لیکن اس طریقے میں دکاندار پہلے ہی یہ اصول مقرر کر لیتا ہے کہ ہر ایک کلو گوشت میں سے 100 گرام صفائی کی مد میں کم کیا جائے گا۔ مثلاً اگر گاہک ایک کلو گوشت خریدنا چاہے تو دکاندار 900 گرام صاف کیا ہوا گوشت تول کر دیتا ہے اور 100 گرام کو پہلے سے مقرر شدہ "صفائی" کی مقدار قرار دیتا ہے۔ 100 گرام اس بات سے قطع نظر کم کیا جاتا ہے کہ حقیقت میں صفائی کے دوران 100 گرام چربی یا زائد گوشت وغیرہ نکلا ہے یا نہیں۔ یعنی اگر کسی مرغی میں صفائی کے بعد صرف 50 یا 70 گرام چربی وغیرہ نکلی ہو تب بھی دکاندار پورے 100 گرام کی کٹوتی کرتا ہے، اور اگر 100 گرام سے زیادہ نکلے تو بھی عموماً اسی مقررہ حساب پر معاملہ کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ فروخت کے متعلق درج ذیل امور بھی مشاہدے میں آئے ہیں: 1. چونکہ صفائی کے لیے پہلے ہی 100 گرام مقرر کر دیا جاتا ہے، اس لیے بعض اوقات دکاندار گوشت کی مکمل اور اچھی طرح صفائی نہیں کرتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ 100 گرام تو پہلے ہی کم کیے جا چکے ہیں۔ 2. گاہک جب مطالبہ کرتا ہے کہ گوشت کو اچھی طرح صاف کیا جائے اور زائد چربی وغیرہ نکالی جائے تو بعض اوقات اس پر دکاندار اور گاہک کے درمیان اختلاف اور جھگڑے کی صورت پیدا ہو جاتی ہے کہ 100 گرام صفائی کے نام پر پہلے ہی کم کیے جا چکے ہیں، مزید صفائی کیوں کی جائے؟ 3. تجربے اور مشاہدے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگر ایک کلو مرغی کا وزن صفائی سے پہلے پورا کیا جائے، پھر اس کی مکمل اچھی طرح صفائی کی جائے، تو صفائی کے بعد باقی رہنے والا صاف گوشت بعض اوقات 900 گرام سے زیادہ بھی ہوتا ہے۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہر مرغی میں صفائی کے دوران ٹھیک 100 گرام ہی وزن کم ہو۔ لہذا مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: 1۔ اگر گاہک ایک کلو صاف مرغی کا گوشت خریدنا چاہتا ہے، تو کیا دکاندار کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ پہلے سے فی کلو 100 گرام صفائی کی مقررہ کٹوتی طے کر کے گاہک کو صرف 900 گرام صاف گوشت دے، خواہ حقیقت میں صفائی کے دوران 100 گرام چربی وغیرہ نکلی ہو یا نہ نکلی ہو؟ 2۔ اگر حقیقت میں صفائی کے دوران 100 گرام سے کم چربی وغیرہ نکلتی ہو، مثلاً صرف 60 یا 70 گرام، تو کیا باقی 30 یا 40 گرام کی کٹوتی کرنا شرعاً جائز ہے؟ 3۔ اگر حقیقت میں 100 گرام سے زیادہ صفائی کا سامان نکل آئے تو کیا دکاندار کے لیے پھر بھی صرف 100 گرام ہی کم کرنا اور باقی زائد چربی کے بدلے گوشت شامل کر کے گاہک کو دینا درست ہوگا یا گاہک کو اس کی مطلوبہ صفائی مکمل کر کے دینی ضروری ہوگی؟ 4۔ اگر دکاندار فی کلو 100 گرام پہلے سے مقرر کر کے کم کرتا ہے، لیکن اس وجہ سے گوشت کی مزید صفائی مکمل طور پر نہیں کرتا، تو کیا ایسا معاملہ شرعاً درست ہے؟ 5۔ کیا شرعی اعتبار سے صحیح طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے مرغی کی مکمل صفائی کی جائے، چربی اور دیگر غیر مطلوب اجزاء نکالے جائیں، پھر حقیقی صاف گوشت کو تولا جائے اور نتیجہ وزن جو آئے اس کے مطابق قیمت وصول کی جائے؟ 6۔ اگر دکاندار اور گاہک باہمی رضامندی سے یہ طے کر لیں کہ "ایک کلو گوشت کی قیمت اتنی ہوگی، جس میں صفائی وغیرہ کے اخراجات یا وزن کی متوقع کمی شامل ہے"، تو کیا یہ صورت جائز ہو سکتی ہے؟ اگر جائز ہے تو اس کی شرعی حدود کیا ہوں گی؟ 7۔ مذکورہ تمام صورتوں میں بیع کی صحت، مقدارِ مبیع، جہالتِ ثمن یا مبیع، اکل مال بالباطل، تدلیس اور باہمی نزاع کے امکان کے اعتبار سے جو شرعی اصول لاگو ہوتے ہیں، ان کی بھی وضاحت فرما دیں۔ 8۔ بالخصوص موجودہ مرغی کے گوشت کی مارکیٹ میں رائج اس طریقہ کار کے بارے میں واضح فرما دیں کہ فی کلو 100 گرام صفائی کی مقررہ کٹوتی کر کے صرف 900 گرام صاف گوشت دینا شرعاً جائز ہے یا ناجائز؟ اور اگر یہ طریقہ ناجائز ہے تو اس کے بجائے عملی طور پر کون سا طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ دکاندار اور گاہک دونوں کے حقوق محفوظ رہیں اور باہمی نزاع بھی نہ ہو۔


جواب:

خرید2و فروخت کی تیسری صورت اختیار نہ کی جائے کیونکہ یہ مفضی الی المنازعۃ ہو سکتی ہے، نیز اس میں گاہک کی حق تلفی بھی ہے ؛کیونکہ 100 /گرام عموما صفائی سے کمی واقع نہیں ہوتی۔

دوسری صورت:

  یہ صورت مناسب ہے صفائی تول کے بعد کی جائے چنانچہ بکری اور گائے کا گوشت فروخت کرنے میں مروجہ طریقہ یہی ہے کہ صفائی تولنے کے بعد کی جاتی ہے ۔

پہلی صورت:

  اس صورت کی  بھی گنجائش ہے کیونکہ مرغی کی خرید و فروخت کا یہ طریقہ بھی مروج ہے تاہم تولنے سے مقصد صرف ایک تخمینہ لگانا ہو، تول کو بیع کا مدار نہ بنایا جائے کیونکہ حضرات فقہاء نے بیع الحیوان وزنًا سے منع فرمایاہے ،  اس لیے تولنے کے بعد کچھ کمی زیادتی سے بیع کی جائے۔ 

ہدایہ میں ایک مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے صاحب ہدایہ نے ارشاد فرمایا۔

 لأن الحيوان لا يوزن عادة ولا يمكن معرفة ثقله بالوزن لأنه يخفف نفسه مرة بصلابته ويثقل أخرى

(ہدايہ، کتاب البیوع، باب الربا، جلد: 3،صفحہ:84، ط: امدادیہ ملتان )

فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 907202610010

فتویٰ آن لائن


میبع کے معیار، مقدار اور وزن سے متعلق مسائل اندازے سے کٹوتی کرنا