زمین غصب کر کے اس کی آمدن کھانے والے کا حکم
سوال: ایک شخص خالد نے دوسرےشخص’’عابد‘‘ کا چار کنال رقبہ دھوکہ اور فراڈ کرتے ہوئے اپنے نام رجسٹری کروالیا۔ عابد اَن پڑھ تھا اس کو ورغلا کر رجسٹری کروائی گئی۔مگر 4 کنال رقبہ سال 1989 تک عابد خودکاشت کرتا رہا ہے ۔ سال 1989 میں خالد نے چوہدریوں ،وڈیروں سے تعلق اور یارانہ کی وجہ سے بزورِ طاقت اور بد معاشی سےاس رقبہ پر قبضہ بھی کر لیا۔ اور اس دوسرے شخص ناصر کے حوالے کر دیا جو کہ تقریبا 37 سال سے ناجائز قابض ہے اور رقبہ کاشت کر رہا ہے۔ عابد کی عمر تقریبا 80 سال تھی اور کانوں سے کم سنائی دیتا تھا اور جب رقبہ چار کنال کے جعلی انتقال کا علم ہوا تو انہوں نے سال 1989 میں کافی بھاگ دوڑ کی ، اس کے بیٹے بشیر نے بڑی کوششیں کی لیکن علاقے میں دشمنی بن گئی تو انہوں نے اپنے بیوی بچوں کی جان بچائی اوریہ علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقہ میں چلے گئے۔ عابد یہ یہ بات دل پر لے لی کہ میرا اکلوتا بیٹا ہے اس کا کیا بنے گا، اسی سوچ میں دل پر بات بٹھائی، اسی چار کنال کے غم میں دل کا دورہ پڑا اور فوت ہو گیا ۔پھر اس کا بیٹا اس عابد کا پوتا زندہ ہے۔ چار کنال رقبہ زرعی اس پر کاشت ہوتی ہے ناجائز قبضہ کے گواہان موجود ہیں جو آج بھی شہادت دینے کے لیے تیار ہیں اور عمر رسیدہ اشخاص ہیں اور اپنی گواہی دینا چاہتے ہیں۔ جبکہ شخض مذکور سے قبضہ مانگا ہے مگر وہ لیت ولعل سے کام لیتا ہے اب ہمیں قرآن و حدیث اور علماء کرام کی کمیٹی بٹھا کر فتوی جاری کیا جائے۔ اس بابت شریعت کی روشنی میں فتویٰ درکار ہے۔
جواب:
سائل نے جو حالات بیان کیے ہیں اور زمین کے جعلی انتقال کا دعویٰ کیا ہے ، ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں ہیں جن کو بروئے کار لا کر ان واقعات کی صحت وسقم کے حوالے سے فیصلہ کیا جاسکے ، لہذا یہ مقدمہ عدالت میں دائر کیا جائے ، عدالت تمام ثبوتوں اور گواہان کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے تحقیق کے مطابق فیصلہ کرے، اگر واقعی جعل سازی سے شخص مذکور کی زمین انتقال کرائی گئی تھی تو زمین لینے والوں کیلئے یہ زمین اور اس کی آمدنی حلال نہیں۔
اللہ جل شانہ نےکا فرمان ہے:
’’{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا۔‘‘ [النساء: 29، 30]
ترجمہ:’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ باہمی رضامندی سے ہونے والی تجارت ہو۔ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے۔‘‘
گویا کہ مال کے معاملے میں باطل طریقے اختیار کرنا، حرام مال کھانا اور دوسرے کے حقوق تلف کرنا انسان کو دنیا و آخرت کی ہلاکت میں مبتلا کرتا ہے۔ چنانچہ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی میں لکھتےہیں:
المعنى لا تهلكوا أنفسكم بارتكاب الآثام كأكل الأموال بالباطل وغيره من المعاصي التي تستحقون بها العقاب.(تفسير الألوسي = روح المعاني (3/ 17)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
أَلا لَا تَظْلِمُوا أَلَا لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى۔ (مشکوٰۃ المصابيح ، رقم الحدیث 2946، 2/ 889)
’’خبردار! ظلم نہ کرنا، خبردار! کسی شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر حلال نہیں۔‘‘
جعل سازی سے انتقال او ربزور طاقت قبضہ غصب ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’’من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع أرضین‘‘(
’’جو کسی کی ناحق ایک بالشت زمین غصب کرے گا اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔ ‘‘
(صحیح البخاری، باب إثم من ظلم شيئا من الأرض ، رقم الحدیث : 2452صحيح مسلم ، باب تحریم الظلم رقم الحدیث:1610)
لہٰذااگر غصب ثابت ہو توغاصب کے ورثاء پر لازم ہے کہ یہ زمین اصل مالک کے ورثاء کو حوالے کر یں۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 909202610013
فتویٰ آن لائن