کپاس خریدنے کے بعد کئی سال تک رقم نہیں دی تو اب کس حساب سے دیگا؟
سوال: زید آج سے تقریبآ 50 سال پہلے بیوپار کا کاروبار کرتا تھا تو اس نے متعدد کاشت کاروں سے دو دو تین تین پانچ پانچ من کپاس خریدی اور ترتیب یہ ہوتی تھی کہ ساری اکٹھی فروخت کر کے رقم ادا کیا کرتا تھا اس دوران ایک بڑے کاشتکار سے بہت زیادہ مقدار میں کپاس کا سودا کیا اور کہا کہ میں صبح اٹھا لوں گا لیکن کاشتکار نے پیشگی رقم کا مطالبہ کرکے پوری رقم وصول کر لی اور کہا کہ صبح اپنی کپاس اٹھا لینا لیکن اس کاشتکار نے راتوں رات کسی اور کو کپاس فروخت کر کے اٹھوالی اور صبح ٹال مٹول کر کے کچھ عرصہ بعد مکر گیا وہ چونکہ ایک بڑا آدمی تھا اسلئے اس سے رقم واپسی ناممکن تھی ۔ لیکن جو چھوٹے کاشتکار تھے زید انہیں بھی کاروباری خسارے کی وجہ سے رقم نہ دے سکا اور اب آکر زید نے اپنے ورثاء کو وصیت کی کہ ان کاشتکاروں کو رقم کی ادائیگی کریں اور حال ہی میں زید کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب ورثاء رقم دینے کیلئے تیار ہیں اب ورثاء اس وقت یعنی پچاس سال پہلے والی قیمت دینا چاہتے ہیں جو اس وقت طے ہوئ تھی جبکہ کاشتکاروں کا مطالبہ موجودہ قیمت کا ہے، لہٰذا اس بارے میں شرعی راہنمائی مطلوب ہے ۔
جواب:
اگر کپاس کا سودا کرتے وقت نرخ کا تعین ہوچکا تھا تو اب اسی نرخ کے حساب سے ادائیگی لازم ہے، کپاس کے موجودہ نرخ کے حساب سے ثمنوں کا مطالبہ کرنا غلط ہے؛ کیونکہ قبضہ کے بعد کپاس مشتری کی ملک ہوچکی ہے۔فروخت کنندگان مقررہ نرخ کے حساب سے قیمت کے حقدار ہیں۔
واذا وجدا (ای:الایجاب والقبول) لزم البیع بلاخیارٍ۔
(الدرالمختارمع الشامیہ ،جلد:۴،صفحہ:۵۲۸، کتاب البیوع، مایبطل الایجاب سبعۃ، ط:ایچ ایم سعید، کراچی)
وامّا حکمہٗ فثبوت الملک فی المبیع للمشتری۔(الخ)
(ہندیہ، جلد:۳،صفحہ:۳، البیوع، الباب الأول فی تعریف البیع ورکنہ وشرطہ وحکمہ، ط:رشیدیہ، کوئٹہ)
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 909202610014
فتویٰ آن لائن