info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





مسجد بنانے کی نذر/ منت مانی تو منعقد نہیں ہوئی


سوال: من مسماۃ ام سلیم کا ایک مکان پانچ مرلہ ہے۔ میرے 2 بیٹے اور 6 بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں اپنے گھروں میں آباد ہیں۔ بیٹے بھی اپنے گھروں میں آباد ہیں۔ ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ گردے کا آپریشن ہوگا، تو اس بیماری میں نے کہا:"اے اللہ! میرا تو کوئی کرنے والا نہیں ہے۔ مجھے آپریشن سےبچا، صحت دے ،میں اپنا رہائشی گھر (واقع لوہار کالونی ، گلی نمبر5)تیرے نام پر دوں گی، مسجد بناؤں گی، اس جگہ تجھے سجدے ہوں گے،یہ جگہ اپنے والد، والدہ اور بھائی تینوں کے ایصالِ ثواب کیلئے دوں گی، جبتک میں جگہ خیرالمدارس کو نہ رکھوا دوں،اس وقت تک مجھے موت نہ دینا" ایک اور موقع پر ساتھ یہ دعا بھی کی تھی:" جبتک میں زندہ ہوں ، اس وقت تک میں اس میں رہوں گی، میرے مرنے کے بعد اس جگہ مسجد بنے گی"۔ الحمد اللہ سال سے اوپر ہوچکا ہے، میں تندرست ہوں۔ اب میرے لئے شریعت محمدیہ میں کیا حکم ہے؟


جواب:

بر تقدیرِصحتِ واقعہ صورتِ مسئولہ میں خط کشیدہ الفاظ نذرکے ہیں اور نذر کے انعقاد کی ایک شرط یہ ہے کہ عبادتِ مقصودہ کی نذر مانی جائے۔ لما في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

(ومنها) أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا؛ لأنها ليست بقرب مقصودة

(كتاب النذر، بيان ركن النذر وشرائطه، 5/ 82 ط:دار الكتاب الإسلامي)

مسجد بنانا عبادت تو ہے لیکن عبادت مقصودہ نہیں ہے، اس لئے یہ نذر منعقد نہ ہوئی۔ لہٰذا سائلہ کو اختیار ہے کہ یہ جگہ اپنی ملکیت میں رہنے دے ،جو اس کے فوت ہونے کے بعد اس کے تمام ورثاء میں شرعی حصص کے حساب سے تقسیم ہوگی۔ یا یہ جگہ مسجد کیلئے وقف کردے۔        لما في قال ابن عابدينؒ في منحة الخالق على هامش البحر:

 أن الشرط كون المنذور نفسه عبادة مقصودة لا ما كان من جنسه ويدل عليه أنهم صححوا النذر بالوقف؛ لأن من جنسه واجبا وهو وقف مسجد للمسلمين وقد علمت أن بناء المسجد غير مقصود

(البحر مع المنحة وتكملة الطوري، كتاب الأيمان، 4/ 321 ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 825202610004

فتویٰ آن لائن


غیر واجب کی نذر ماننا مسجد بنانے کی نذر ماننا