چھوٹی بستیوں میں جمعہ قائم کرنے کا حکم
سوال: کیا چھوٹی بستیوں میں جمعہ قائم کیا جاسکتا ہے۔
جواب:
نمازِ جمعہ اسلام کے عظیم شعائر اور اہم فرائض میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ۔
ترجمہ: اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔
جمعہ کی نماز عام نمازوں کی طرح نہیں، بلکہ اس کے لیے شریعت نے کچھ مخصوص شرائط مقرر فرمائی ہیں۔ اگر یہ شرائط پوری ہوں تو جمعہ ادا کرنا لازم ہے، اور اگر نمازِ جمعہ کی صحت کی شرائط ہی موجود نہ ہوں تو جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز ادا کی جائے گی۔
فقہائے احناف نے نمازِ جمعہ کی شرائط کو مختلف انداز سے تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ان شرائط میں سے ایک بنیادی شرط شہر، قصبہ یا قریہ کبیرہ ہوناکا ہونا ہے ۔ یعنی نمازِ جمعہ مصر، شہر، قصبہ، فناءِ مصر یا ایسے بڑے گاؤں میں قائم ہو جو شرعی اعتبار سے شہر کے حکم میں ہو۔
نمازِ جمعہ اسلام کا عظیم فریضہ اور مسلمانوں کے اجتماعی شعائر میں سے ہے۔ اس لیے اس کے قیام میں شرعی شرائط سے صرفِ نظر کرنا درست ہے۔اس لیے ہر چھوٹی بستی، گاؤں یا چند گھروں کے مجموعے میں محض لوگوں کے جمع ہوجانے سے جمعہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔
قریہ کبیرہ کی بعض عرفی علامات یہ ہے:
1۔ ڈھائی سے تین ہزار یا اس سے زائد آبادی
2۔ متصل بازار، روزمرہ ضروریات کی اشیاء، ڈاکٹر یا حکیم، مختلف قسم کی دکانیں، معمار و مستری،وغیرہ موجود ہوں۔
اگر کوئی بستی شرعی اعتبار سے قریہ کبیرہ یا شہر کے حکم میں نہیں اور وہاں جمعہ کی شرائط موجود نہیں تو فقہِ حنفی کے مطابق وہاں جمعہ قائم کرنا درست نہیں۔بلکہ وہاں جمعہ کے بجائے ظہر کی نماز ادا کی جائے گی۔
کسی چھوٹی بستی میں کئی سال سے جمعہ پڑھا جارہا ہے، اس وجہ سے وہاں جمعہ کو باقی رکھنا درست نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی ضرورت کی نماز ان کے ذمّہ باقی رہتی ہے ، لہٰذا جب تک جمعہ کی شرائط پوری نہ ہوجائیں تو محض قدیم معمول کی وجہ سے جمعہ جاری رکھنا درست نہیں۔
فقط واللہ اعلم
فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 910202610022
فتویٰ آن لائن