info@fatwaaonline.com.pk
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
فتویٰ آن لائن

فتویٰ آن لائن

دارالافتاء





کرنسی کے تبادلے میں قیمت کے فرق سے فائدہ اٹھانے کی شرعی حیثیت


سوال: ایک شخص ڈالر کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر مارکیٹ میں ایک ڈالر کا نرخ 180پاکستانی روپے ہو، لیکن بعد میں اس کا ریٹ بڑھ کر 280روپے ہوگیا تو کیا شرعی اعتبار سے خریداری کی قیمت سے زائد رقم پر ڈالر فروخت کرنا جائز ہوگا؟ جبکہ پہلے ڈالرز پر قبضہ بھی کرلیا تھا


جواب:

پاکستانی روپے اور امریکی ڈالر چونکہ دو الگ الگ ملکوں کی کرنسیاں ہیں، اس لیے فقہی اعتبار سے یہ مختلف الجنس ہونے کی وجہ سے ان کا باہمی تبادلہ یکساں مقدار میں ہونا ضروری نہیں۔ چنانچہ خرید و فروخت کرنے والے کو اس فرق سے نفع حاصل کرنے کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ کرنسی کا تبادلہ نقد اور باہمی قبضے کے ساتھ ہو۔

اس بنا پر اگر کسی شخص نے ڈالر 180 روپے میں خریدے اور خریدتے وقت ہی روپے اور ڈالر دونوں کا قبضہ مکمل ہوگیا، تو اس کے لیے ان ڈالرز کے ریٹ بڑھ جانے کے بعد 280 روپے میں فروخت کرنا شرعاً درست ہے؛ کیونکہ مختلف الجنس کرنسیوں کے تبادلے میں کمی بیشی کے ساتھ معاملہ کرنا جائز ہے۔ 

 وقید بالذھب والفضة لأنہ لو باع فضة بفلوس أو ذھبا بفلوس فإنہ یشترط قبض أحد البدلین قبل الافتراق لا قبضھما کذا فی الذخیرة وقدمناہ عند قولہ في باب الربا: ”وصح بیع الفلس بالفلسین “(البحر الرائق ۶: ۳۲۴عن الذخیرة، ط: مکتبة زکریا دیوبند)

وسئل الحانوتي عن بیع الذھب بالفلوس نسیئة، فأجاب بأنہ یجوز إذا قبض أحد البدلین لما فی البزازیة: لو اشتری مائة فلس بدرھم یکفي التقابض من أحد الجانبین الخ (رد المحتار ۷: ۴۱۴)


فتوی نمبر : 125202610001

فتویٰ آن لائن


ڈالر کی خریدوفروخت